اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا ہے کہ آج کےعالمگیریت کے دور میں خطرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے اور اس وقت انتہا پسندی اور تشدد بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور قریب اور دور کے تمام علاقے اسکی زد میں ہیں ۔ انہوں نے مذید کہا ہے کہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس وقت بھی عراق اور شام کی طرف دہشتگردوں کے جانے کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دہشتگردی پر قابو پانے کی عالمی کوششیں ناکافی ہیں ۔ یاد رہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس روس کی طرف سے دہشتگردی کے خلاف پیش کی جانے والی قراد داد کے مسودے کا جائزہ لینے کے لئے بلایاگیا ہے ایران کے وزیر خارجہ نے اس ہنگامی اجلاس میں ایرانی صدر کی تجویز جس میں دہشتگردی کے خلاف متحدہ محاذ بنانے اور مشترکہ ایکشن پلان بنانے کی بات کی گئی ہے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس متحدہ محاذ کی اس لئے بھی ضرورت ہے کیونکہ خطرات میں تسلسل پایا جاتا ہے اور اسکے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف اس وقت جو متحدہ محاذ موجود ہے وہ مطلوبہ اھداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ علاقے کے تمام ممالک کو دہشتگردوں کے مالی ذرائع کو بند کرنے، نئے افراد کو بھرتی کرنے اور مختلف سرحدوں سے انکی آمد و رفت کو روکنے کے لئے مل کر اقدامات کرنے ہونگے ۔ جواد ظریف کا مذید کہنا تھا مقبوضہ فلسطین پر اسرائیلیوں کے قبضے اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے بھی غلط استفادہ کرتے ہوئے انتہا پسند ی کو ہوا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لہذا اس موضوع پربھی دہشتگردی کے خلاف مشترکہ ایکشن پلان میں خصوصی توجہ دی جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲